Showing posts with label sargodha news. Show all posts
Showing posts with label sargodha news. Show all posts

Tuesday, April 10, 2012

sargodha news pic


سرگودہا (الجلال نیوز) کمشنر سرگودہا ڈویژن شوکت علی نے کہا ہے کہ سرگودہا ڈویژن میں رواں مالی سال کے اختتام تک سات نئے ڈگری کالجز میں کلاسیں شروع ہو جائیں گی ۔ جس سے خواتین کے لیے انکے گھروں کے قریب اعلی تعلیم کی بہتر سہولتیں حاصل ہو جائیں گی ۔ انہوں نے یہ بات آج گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین چاندنی چوک سرگودہا کے سالانہ جلسہ تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے کہی تقریب میں پرنسپل کالج شاہدہ طاہر ، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز لیاقت غفور پراچہ ، کالج فیکلٹی ممبران اور طالبات نے شرکت کی ۔کمشنر نے خواتین کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک عورت کا تعلیم یافتہ ہونا پورے گھر میں تعلیمی انقلاب پیدا کر سکتا ہے ۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا ہے کہ وہ تعلیم مکمل کرنیکے بعد گھر بیٹھنے کے بجائے ملک و قوم کے  لیے اپنی صلاحیتوں اور خدمات کو ڈلیور کرنے پر بھی توجہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین مردوںکے ساتھ ساتھ ہر شعبہ زندگی بشمول سی ایس ایس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھر پور حصہ لے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سوشل پریشر میں آنے کی بجائے حقائق کا سامناکرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرناچاہیے ۔ انہوں مزید کہا کہ ملک کے 80فیصد سرکاری تعلیمی اداروں سے نوجوان نسل مستفید ہو رہی ہے صرف 20فیصد لوگ ہی پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے اخراجات برداشت کرتے ہیں ۔ انہوں نے طالبات کو محنت اور لگن کے ساتھ حصول علم کے لیے کوشش جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا کہ کسی بھی شعبہ میںمحنت اور میرٹ کو نظر انداز نہیںکیا جاسکتا۔ میرٹ اپنی جگہ خود ہی بناتاہے ۔ انہوںنے کہا کہ قوم کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے ۔قبل ازیںکمشنر نے ایف ایس سی اور ایم اے تک نمایاںپوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میںانعامات تقسیم کئے ۔ جن طالبا ت کو انعامات دیے گئے ان میں ایف اے /ایف ایس سی009-11میں انعم جاوید، نادیہ حسین، طیبہ قاسم،نائلہ ، فائزہ حنیف ،سیدہ خلیل ،حافظہ نمرہ مقصود ،انعم رفیق ، ثوبیہ فیاض ،ثمرین،ثاہرادریس ، طاہرلیاقت ، شکیلہ ،شاہدہ پروین ،سدرہ اقبال،مریم فاطمہ ،سحرش ، امینہ اظہر ، محوش ، مریم احمد، ام رباب ، اقر ا ، مریم انتظار ، عروصہ منیر ، عائشہ صدیقہ ، فرزانہ نورین،ندرت فاطمہ ،ربعیہ شاہ ،ربعیہ  سعید،انعم،عائشہ ظہیر،فرزانہ نصراللہ ، عاصمہ الطاف ، شمائلہ خلیل ، حناء تبسم ، عنبرین عابد ،اورکائنات ظفر شامل ہیں۔اسی طرح بی اے /بی ایس سی 2009-11میں جن طالبات کو انعام دیا گیا ان میں ثمیرہ ممتاز، زکیہ بتول ، صدف حیات ، الماس فاطمہ ، صدف ممتاز۔ ماریہ مجاہد ، فرا یاسمین ، صائمہ یاسمین ، انعم افتخار، کرن اصفر ، سعدیہ سحر ، انعم یامین ،عنبرین ، نوشین نواز ، سدرہ عباس ، سدرہ اقبال ،نایال زائد ہ ، طیبہ شفقت ، ارم رحمان،ثناء منیر ،افرا علی ، سیماںسحر ، ریما ایمان ، مصباح راجہ ، سدرہ رحمان ، انعم اسرار کشور شاہین، زنیرہ مسرت ، اور قرت العین ، شامل ہیں ۔ایم اے اسلامیات 2009-11میں اقرا محمود ، توقیر فاطمہ ،محوش اور فردوس جمشیدشامل ہیں ۔ ایف ایس سی010-12میں ظل اقصی ، صباء ، ثناء شاہین ، حامدہ مختار ،تحرین کوثر ، اقرا الطاف ، انعم ایوب ،عروشہ جاوید ،ثمرین تبسم، اقصی زبیر ، ثمینہ ناصر ، تحریم جاوید،زینب شریف ، رضوانہ کرن ،مائراعثمان، کرن ظہیر ، رباب سلطان ، کنزا یونس ، سدرہ ،مطیہ جہان ، اقرا سلیم ، ردا اکبر ، کائنات، سونیاسعید ، حافظہ ربعیہ اختر ، حافظہ مریم طارق اور حافظہ اقر ا محمود شامل ہیں۔






Friday, April 6, 2012

مسیحا جب موت بانٹنے لگیں تو پھر تمام انسانی قدریں دم توڑ دیتی ہیں



<p style="text-align: right;">بھیرہ (الجلال نیوز ) مسیحا جب موت بانٹنے لگیں تو پھر تمام انسانی قدریں دم توڑ دیتی ہیں اور دکھوں کا مدائواکر نے کی بجائے غفلت شعار پتھر دل عناصر اذیتوں کے بیو پاری بن کرسر کاری اور نجی شعبہ میں اپنے فن کے جوہر دیکھا تے بے گناہ معصوم انسانی زندگیوں سے کھیلتے یہاں و ہاںنظر آتے ہیں کچھ ایسا ہی سنگدلانہ فن ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سر گودھا میں بیٹھے مسیحائوں نے 30جنوری 2008ء کو دکھایا اور اپنی تما م تر نااہلیوں اور غیر ذمہ داریوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک 22سالہ نوجوان دوشیزاہ سے دوران آپریشن اسکی زندگی کی تمام رعنائیاں ،خوشیاں اور خواہشیں چھین کر اسے زندہ لاش بنا دیا اس ہسنتی مسکراتی معصوم جان سے ایسا بھیانک سلوک روا رکھنے والے نام نہاد مسیحا نشان عبرت بننے کی بجائے اب بھی اپنی کاری گریوں میں مصروف دھن کے لالچ میں انسانی زندگیوںکو تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں اور انہیں اپنے کئے پر کوئی ندامت اور شرمندگی نہیں ہاں انکی بے حسی اور سنگدلی نے ضلع سر گودھا کے قصبہ میانی کی تب 22سالہ دوشیزہ ارم ناز جو گزشتہ سوا چار سال سے زندہ لاش کی صورت پتھر بنی پڑی ہے کے والدین کو لمحہ لمحہ کی اذیتوںسے دوچار کردیا ہے اجمال یہ ہے کہ 30جنوری 2008کو جواں سال ارم ناز کو اسکا والد باطی خان جو گورنمنٹ ڈگری کالج میانی میں درجہ چہارم کا ملازم ہے محلہ شریف آباد میانی سے ناک کی غدود کے آپریشن کی غرض سے ڈی ایچ کیو ہسپتال سر گودہا لے گیا جہاں ڈاکٹروں نے ارم ناز کی ناک کے آپریشن کے دوران نااہلی کا مظاہرہ کر تے ہو ئے اس کے پانچ دانت توڑ ڈالے اور اسی پر بس نہیں ظالم مسیحائوںنے اپنے پیشہ کے تقدس کو پامال کر تے ہو ئے ایسی سنگدلی کا مظاہرہ کیا کہ معصوم ارم ناز بے ہوشی سے بڑھتی کو مہ میں چلی گئی غفلت شعار ڈاکٹروں نے ارم ناز کو ناک کے غدود سے نجات دلاتے دلاتے اسے زندگی کی خوشیوں ہی سے دور کر دیا معصوم بد قسمت ارم نازکے والد باطی خان نے روتے ہو ئے میڈیا کو بتایا کہ اس کی بیٹی گذشتہ چار سال اور قریباََ تین ماہ سے کومہ میں پڑی زندہ لاش ہے اس کی ماں اپنی بیٹی کی حالت دیکھ دیکھ کر ذہنی مریضہ بن چکی ہے اپنی جواں سال بہن کی معذوری دیکھ کر بہنیں فوزیہ ناز ۔مصباح ناز ۔اقرا نازاور بھائی فیصل عباس مایوسیوں کی تصویر بن چکے ہیں باطی خان نے کہا کہ وہ اپنی جواں سال بیٹی سے رکھے جانے والے ظالمانہ سلوک کے ازلہ کیلئے کس کا درواذہ کھٹ کھٹائے ۔کس سے انصاف طلب کرے وہ سوا چار سال سے منصف کی تلاش میں ہے ہنستے بستے گھر کو ماتم کدہ بنا نے والوں کو کو ئی کٹہڑے میں لا کھڑا کر نے والا اسے نظر نہیں آتاصدر پاکستان ۔چیف جسٹس آف پاکستان ۔وزیراعظم پاکستان ۔گورنر پنجاب۔چیف جسٹس پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شر یف سے خدا اور رسول ؐ کا واسطہ دیتے ہو ئے اس نے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہو نے والی نا انصافی کا نوٹس لیں اور حقیقی مسیحا بن کر ان کے دکھوں کا مداواکریں اور غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کر کے انہیں انصاف دلائیںشاہد اس کی بیٹی کو نئی زندگی مل جائے ۔ کہ اب اس میں یارا نہیں کہ وہ اپنی پھول سی معصوم بیٹی کی مہنگی خوراک کا سلسلہ جاری رکھ سکی۔</p>